ھیلومیرے دوست کی مامی بہت خوبصورت تھی لمبا قد اور بڑے ممے موٹی گانڈ باڈی ایک دم شیروں کے جیسی تھی ۔ دوست اکثر مجھے اپنی مامی کے گھر لےجاتا اور ھم دوست کے مامو سے گپ شپ کرتے لیکن میرا دوست کی مامی پر دل آگیا تھا ۔ دوست سے بھی کہا کے یار تیری مامی مجھے بہت پسند ھے پھر جب میں دوست کی مامی کی بات کرتا تو میرا لن کھڑا ھوجاتا دوست کو کھڑا لن شلوار میں دیکھایا پھر دوست جب مجھے کہتا تیری معشوق کے گھر چلیں تو پھر ھم جاتے ۔ پھر دوست چلا گیا پھر میں بھی نہیں جاتا تھا پھر کچھ عرصے کے بعد دوست کی مامی کا شوہر بمار ھوکر مرگیا ۔ پھر ایک بار میں نے اسے کہیں دیکھا تو مامی سے ملا دوست کی مامی نے کہا آج کل کہا ھوتے ھو میں نے کہا ملنا ھے مسکراتے کہا ہاں میں نے کہا جب بولو کہا رات کو آؤ میں نے کہا ضرور پھر اس کا بیٹا آیا تو کہا تم جاؤ میں رات کو آؤنگی پھر رات کو فون کیا کہا میں آرھی ھوں میں نے کہا آجاؤ پھر دس منٹ بعد دوست کی مامی آئی کہا گیٹ لاک کردو پھر ھم روم میں آئے تو دوست کی مامی نے مجھے باہوں میں بھر کر چومتے کہا ساری رات مجھے خوش کرو میں لن تڑپ رہی ھوں پھر مامی نگی ھوگئی میں دوست کی مامی کا نگا جسم دیکھ کے پاگل ھو گیا اور مامی کو چومنے لگا مجھے نگا کیا تو میرا لن دیکھ کر کہا ھائے میں مر جاؤ تیرا لن تو بہت لمبا موٹا ھے لن کو بہت پیار کیا میں نے چوت کو پیار کیا پھر بڑی مشکل سے لن چوت میں گیا دوست کی مامی تو مست ھوگئی پھر ساری رات چدائی کی پھر تو ہر رات کو آتی ھم چدائی کرتے کہا جب سے شوہر مرا تو میں پیاسی تھی ۔/
ھیلو دوستوں میری سچی اور گرم کہانیاں پڑھو، کمنٹ کرو۔ اپنی کہانی ای میل کرو، شیر ھوں گی روز نئی کہانی اپڈیٹ ہوتی ھے۔ کاپی کرنا منع ھے۔ قانونی کاروائی ہوگی۔ Helo dosto! Meri Sachi garm kahaniyan parho,comment karo.Apni kahani email karo, Hum share karunge. Roz nayi kahani update hoti hai.Note: Copying prohibited. Legal action will be taken.
ھیلو دوستوں میری سچی اور گرم کہانیاں پڑھو، کمنٹ کرو۔ اپنی کہانی ای میل کرو، شیر ھوں گی روز نئی کہانی اپڈیٹ ہوتی ھے۔ کاپی کرنا منع ھے۔ قانونی کاروائی ہوگی۔ Helo dosto! Meri Sachi garm kahaniyan parho,comment karo.Apni kahani email karo, Hum share karunge. Roz nayi kahani update hoti hai.Note: Copying prohibited. Legal action will be taken.
میری جوانی کی آگ
▼
میری جوانی کی آگ
▼
میری جوانی کی آگ
▼
No comments:
Post a Comment